صحت

سائیلنٹ ہارٹ اٹیک کیا ہوتا ہے اور اس کی علامات کیا ہیں؟

ہارٹ اٹیک کا سامنا کسی فرد کو اس وقت ہوتا ہے جب دل کی جانب خون کا بہاؤ بہت زیادہ گھٹ جائے یا بلاک ہوجائے۔

عموماً شریانوں میں چکنائی، کولیسٹرول اور دیگر مواد کا اجتماع دل تک خون کے بہاؤ میں کمی کا باعث بنتا ہے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کی ایک قسم سائیلنٹ یا خاموش ہارٹ اٹیک بھی ہے، جس میں چھاتی میں درد یا دیگر روایتی نشانیاں ظاہر نہیں ہوتیں۔

درحقیقت اکثر تو متاثرہ فرد کو علم بھی نہیں ہوتا کہ اسے ہارٹ اٹیک کا سامنا ہوا ہے۔

امریکا کے کلیو لینڈ کلینک کے مطابق سائیلنٹ ہارٹ اٹیک میں کسی قسم کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، یا علامات کی شدت معمولی ہوتی ہے یا علامات ایسی ہوتی ہیں جن کو ہارٹ اٹیک سے منسلک نہیں کیا جاسکتا۔

مگر پھر بھی یہ ایک ہارٹ اٹیک ہوتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دل کے لیے خون کی روانی اور آکسیجن میں کمی آئی ہے جس سے دل کو نقصان پہنچتا ہے۔

یعنی سائیلنٹ ہارٹ اٹیک بھی دل کو اسی طرح نقصان پہنچاتا ہے جس طرح روایتی ہارٹ اٹیک پہنچاتا ہے، مگر جب آپ کو ہارٹ اٹیک کا علم ہی نہیں ہوتا تو طبی امداد کے لیے رجوع بھی نہیں کرتے۔

اسی وجہ سے ضروری ہے کہ آپ اپنی حالت پر توجہ مرکوز کریں۔

تو یہ سائیلنٹ ہارٹ اٹیک کتنا عام ہوتا ہے؟

طبی ماہرین کا تخمینہ ہے کہ 20 سے 60 فیصد ہارٹ اٹیک سائیلنٹ ہوتے ہیں۔

خواتین یا ذیابیطس کے شکار افراد میں سائیلنٹ ہارٹ اٹیک زیادہ عام ہوتا ہے۔

سائیلنٹ ہارٹ اٹیک کی علامات کیا ہوتی ہیں؟

روایتی ہارٹ اٹیک کے برعکس خاموش ہارٹ اٹیک کی علامات بظاہر اس بیماری سے متعلق محسوس نہیں ہوتیں بلکہ اکثر تو علامات ظاہر ہی نہیں ہوتیں۔

اکثر علامات کی شدت بھی معمولی ہوتی ہے جو درج ذیل ہیں۔

آپ کو فلو جیسا محسوس ہوتا ہے۔

سینے یا بالائی کمر کے مسل میں سوجن ہونا۔

جبڑے، بازوؤں یا بالائی کمر میں تکلیف محسوس ہونا۔

بہت زیادہ تھکاوٹ محسوس ہونا۔

بدہضمی ہونا۔

روایتی ہارٹ اٹیک میں سینے میں تکلیف، سانس لینے میں مشکلات، سر چکرانے، بالائی جسم میں عدم اطمینان یا کھچاؤ محسوس ہونا، قے، متلی اور بہت زیادہ تھکاوٹ جیسی علامت کا سامنا ہوتا ہے۔

سائیلنٹ ہارٹ اٹیک کی وجوہات

دل کے امراض ہارٹ اٹیک کی اس قسم کی وجہ بنتے ہیں۔

کولیسٹرول کے باعث شریانوں میں جمع ہونے والے مواد سے دل کو خون کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔

جب اس مواد میں بلڈ کلاٹ یا خون کا لوتھڑا بنتا ہے تو وہ خون کے بہاؤ کو روکتا ہے اور سائیلنٹ ہارٹ اٹیک کا سامنا ہوتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker