نایاب مہمان پرندہ وائٹ سی ایگل 155 سال بعد پاکستان کی فضاؤں میں آ پہنچا

سفید دم عقاب، جسے وائٹ ٹیلڈ سی ایگل بھی کہا جاتا ہے، پاکستان میں انتہائی نایاب پرندہ ہے۔
سرد خطوں کا یہ طاقتور شکاری ممکنہ طور پر سخت موسم کے باعث راستہ بھٹکا اور سندھ پہنچ گیا مگر آسمانوں کا یہ شکاری سندھ کے شکاریوں سے محفوظ نہ رہ سکا اور اسے پکڑ کر قید کر لیا گیا۔
ممکنہ طور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث وائٹ سی ایگل راستہ بھٹکا اور سندھ آپہنچا۔
شکار کے لیے اسے استعمال کیا جائے، اس لیے اس کی آنکھوں کو سوئی سے سی دیا گیا اور اڑ نہ سکے، اس لیے اس کے پر کاٹ دیے گئے۔
نومبر 2025 میں ہارون نے اپنی ٹیم کے ہمراہ اس قیمتی ترین ایگل کو سکھر سے ریسکیو کیا۔
یہ طاقتور شکاری پرندہ عموماً اسکینڈینیویا سے سائبیریا تک سرد خطوں میں پایا جاتا ہے۔پاکستان میں اس کی آمد انتہائی نایاب ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ پوری بیسویں صدی میں پاکستان میں اس کے صرف 12 سے 15 یا اس سے بھی کم مستند ریکارڈ سامنے آئے۔
پاکستان میں سفید دم عقاب کو "نایاب موسمِ سرما کا مہمان” کہا جاتا ہے، اسی لیے سندھ میں اس کا ملنا جنگلی حیات کے لیے ایک اہم واقعہ ہے۔



