کراچی: نامعلوم افراد کی اسپتال میں فائرنگ، ڈاکٹر جاں بحق

کراچی کے علاقے گلشن معمار میں نامعلوم مسلح ملزمان نے اسپتال میں گھس کر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں ڈاکٹر کاشف جاں بحق ہوگئے جب کہ ملزمان باآسانی فرارہونے میں کامیاب ہوگئے۔ دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق فائرنگ کا واقعہ گلشن معمار کے سیکٹر ایکس ٹو میں واقع آغا اسپتال میں پیش آیا، جہاں ڈاکٹر کاشف او پی ڈی میں مریضوں کا معائنہ کررہے تھے کہ اسی دوران 2 نامعلوم مسلح ملزمان اسپتال میں داخل ہوئے اور فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے۔
زخمی ڈاکٹر کاشف کو طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دوران علاج دم توڑ گئے جب کہ فائرنگ کے بعد ملزمان موقع سے فرارہوگئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کی شناخت ڈاکٹر کاشف کے نام سے ہوئی ہے جب کہ واقعے کی کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آسکیں، جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کرکے فرار ملزمان کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔
وزیر داخلہ سندھ کا واقعے کا نوٹس
دوسری جناب وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے گلشنِ معمار میں اسپتال کے اندر ڈاکٹر کے قتل کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ویسٹ سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔
وزیر داخلہ سندھ نے ہدایت کی کہ ڈاکٹر پر فائرنگ اور قتل میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور ان کی شناخت کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
ضیا الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ طبی مرکز میں گھس کر ڈاکٹر کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، واقعے کے محرکات اور پس پردہ حقائق ہر پہلو سے سامنے لائے جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ذاتی تنازع سمیت تمام ممکنہ پہلوؤں سے واقعے کی تحقیقات کی جائیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تفتیش میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔
وزیر داخلہ سندھ نے مزید کہا کہ شہر میں شہریوں، بالخصوص طبی مراکز میں کام کرنے والے افراد کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مقتول ڈاکٹر کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور افسوس کا اظہار بھی کیا۔
ادھر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے بھی ایس ایس پی ویسٹ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کریں۔



