بلوچستان کے تعلیمی ادارے: نصاب بدلا، سوچ نہ بدلی







<a href="/2025/balochistan/205169/">بلوچستان</a> کے تعلیمی ادارے: نصاب بدلا، سوچ نہ بدلی | Encounter <a href="/">News</a>






































encounternews.pk — آپ کی آواز، آپ کی خبر | جمعہ 17 اپریل 2026





تعلیم | EDUCATION

بلوچستان کے تعلیمی ادارے: نصاب بدلا، سوچ نہ بدلی

"جب استاد خود نہیں جانتا تو بچہ کیا سیکھے گا؟” — ہیڈ ماسٹر کے کردار، ضائع ہوتی سہولتوں اور نئے نصاب کی ناکامی کا ASER، UNICEF، World Bank ڈیٹا کی روشنی میں تجزیہ

بلوچستان میں تعلیم کا ذکر ہو تو اکثر بات عمارتوں کی کمی، بجٹ اور غیرحاضری تک محدود رہتی ہے۔ لیکن آج ہم ایک ایسے مسئلے کی بات کریں گے جو ان سب سے زیادہ گہرا، خطرناک اور فوری توجہ کا متقاضی ہے — موجود سکولوں میں تعلیمی معیار کا فقدان، نئے نصاب کی عملی ناکامی، اور اسکول کی قیادت کی ذمہ داری سے فرار۔ عالمی اداروں کے اعداد وشمار اس بحران کی ہولناک تصویر پیش کرتے ہیں۔

79.5%
بلوچستان میں Learning Poverty
(World Bank / GPE 2024)

69%
بچے سکول سے باہر
(UNICEF Pakistan)

46/100
DEPIx تعلیمی کارکردگی
(Planning Commission 2023)

41%
سکول جہاں صرف ایک استاد
(Pakistan Edu Stats 2023-24)

900+
گھوسٹ سکول
(Balochistan Assembly 2016)

33%
پرائمری سطح پر بنیادی سہولتوں تک رسائی
(Pakistan Edu Survey)

📚 نصاب بدلا — لیکن کلاس روم میں کچھ نہیں بدلا

پاکستان میں Single National Curriculum (SNC) نافذ ہو چکا ہے۔ اس نصاب کی بنیاد Conceptual Understanding، Activity-Based Learning اور Critical Thinking پر ہے — رٹا سسٹم کی واضح نفی۔ مقصد یہ ہے کہ بچہ رٹے نہیں بلکہ سمجھے، سوال کرے اور خود دریافت کرے۔

لیکن بلوچستان کے اسکولوں میں زمینی حقیقت یہ ہے کہ استاد آج بھی وہی پرانا سبق بورڈ پر لکھ رہا ہے، بچے آج بھی وہی رٹ رہے ہیں، اور امتحان میں آج بھی "یاد کیا ہوا” لکھا جا رہا ہے۔

🔍 اہم دریافت — ASER Pakistan 2023
بلوچستان اور سندھ میں تعلیمی نتائج انتہائی کمزور ہیں۔ پانچویں جماعت کے صرف 43 فیصد طلباء سادہ تقسیم کا سوال حل کر سکتے ہیں، جبکہ انگریزی میں جملہ پڑھنے کی شرح انتہائی کم ہے۔ AJ&K اور پنجاب بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں جبکہ بلوچستان سب سے پیچھے ہے۔

جدول ۱: تمام صوبوں کا تعلیمی کارکردگی موازنہ (DEPIx 2023)
صوبہ / خطہDEPIx اسکور (100 میں)کارکردگیبصری نمائندگی
پنجاب61درمیانی

61%

خیبر پختونخوا55درمیانی

55%

سندھ51.5کم

51.5%

⚠️ بلوچستان46سب سے کم

46%

اسلام آباد (ICT)53بہترین (High)

53%

ماخذ: District Education Performance Index (DEPIx) 2020–2023، Planning Commission of Pakistan

جدول ۲: سکول سے باہر بچے — صوبہ وار (UNICEF Pakistan)
صوبہسکول سے باہر بچےفیصد شرحلڑکیاں (تقریباً)
⚠️ بلوچستان35 لاکھ69%78% لڑکیاں باہر
سندھ79.8 لاکھ44%زیادہ تعداد
خیبر پختونخوا45 لاکھ34%قابل ذکر
پنجاب109.6 لاکھنسبتاً کمکم
اسلام آباد (ICT)0.9 لاکھ15%کم
ماخذ: UNICEF Pakistan — Education Section | Pakistan Education Statistics 2023-24

🏫 ہیڈ ماسٹر اور پرنسپل: اصل ذمہ دار کہاں کھڑا ہے؟

اسکول کا ہیڈ ماسٹر یا پرنسپل تعلیمی قائد (Instructional Leader) ہوتا ہے — یا ہونا چاہیے۔ اس کا کام صرف انتظامی نہیں بلکہ تعلیمی رہنمائی، اساتذہ کی تربیت، نصاب کو عملی جامہ پہنانا اور بچوں کی تربیت یقینی بنانا ہے۔

لیکن بلوچستان کے اکثر اسکولوں میں پرنسپل کا پورا کام اساتذہ کو کلاس میں بھیجنا رہ گیا ہے۔ اگر یہی ذمہ داری ہے تو ایک چپراسی بھی یہ کام انجام دے سکتا ہے۔ کلاس میں کیا پڑھایا جا رہا ہے، بچہ سیکھ رہا ہے یا نہیں، استاد نئے نصاب کو سمجھتا ہے یا نہیں — ان سوالوں سے کسی کو سروکار نہیں۔

جدول ۳: ہیڈ ماسٹر کا مثالی کردار بمقابلہ موجودہ حقیقت
ذمہ داریمثالی (ہونا چاہیے)موجودہ صورتحال (بلوچستان)
نصاب سے آگاہی✅ SNC کی مکمل سمجھ اور عملی اطلاق❌ خود نصاب سے ناواقف
اساتذہ کی رہنمائی✅ باقاعدہ mentoring اور feedback❌ صرف حاضری چیک کرنا
کلاس مانیٹرنگ✅ کلاس رومز کا باقاعدہ دورہ❌ دفتر میں بیٹھنا
سہولتوں کا استعمال✅ NGO سامان کا تعلیمی استعمال یقینی بنانا❌ سامان سٹور روم میں یا بکا ہوا
ٹریننگ کا اہتمام✅ اندرونی تربیتی سیشنز❌ کوئی سیشن نہیں
بچوں کی تربیت✅ character building اور life skills❌ صرف رٹا اور امتحان
احتساب✅ خود کو جوابدہ سمجھنا❌ کوئی احتساب نہیں
تجزیہ: Encounter News — زمینی رپورٹنگ اور تحقیقی مآخذ کی بنیاد پر

👨‍🏫 استاد قصوروار ہے — یا سسٹم؟

اساتذہ کو اکیلے قصوروار ٹھہرانا انصاف نہیں ہوگا۔ محکمہ تعلیم بلوچستان نے SNC نافذ کیا لیکن نہ کوئی باقاعدہ ٹریننگ دی، نہ orientation session منعقد ہوا، نہ رہنما مواد (teacher guides) فراہم کیا گیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ استاد وہی کرتا ہے جو اسے آتا ہے — پرانا طریقہ، پرانا رٹا۔

"NAT 2023 رپورٹ کے مطابق چوتھی جماعت میں انگریزی میں اوسط نمبر 51.2 فیصد، اردو میں 64.8 فیصد اور ریاضی میں صرف 40.4 فیصد رہے۔ یہ اعداد بتاتے ہیں کہ بنیادی تعلیم میں بھی سنگین خلا موجود ہے۔”
— Balochistan Learning Programme Document, Global Partnership for Education 2024

جدول ۴: NAT 2023 — بلوچستان گریڈ 4 نتائج
مضموناوسط نمبر (%)کارکردگیبصری
اردو64.8%قابل قبول

64.8%

انگریزی51.2%کمزور

51.2%

⚠️ ریاضی40.4%انتہائی کمزور

40.4%

ماخذ: National Achievement Test 2023 — Balochistan Learning Programme, GPE

💻 سہولتیں ہیں — لیکن استعمال نہیں

این جی اوز اور بین الاقوامی اداروں نے بلوچستان کے سکولوں کو کمپیوٹر، پروجیکٹر، اسمارٹ بورڈ اور دیگر جدید آلات فراہم کیے۔ نتیجہ؟ تین المناک نتائج سامنے آئے:

جدول ۵: بنیادی سہولیات کی دستیابی — صوبہ وار موازنہ
سہولتپنجابKPKسندھ⚠️ بلوچستان
بجلیزیادہزیادہدرمیانیکم
پینے کا پانیزیادہزیادہدرمیانیصرف 23%
بیت الخلاءزیادہزیادہدرمیانیکم
چار دیواریدرمیانیدرمیانیکمانتہائی کم
تمام 5 سہولتیں ایک ساتھقابل قبولقابل قبولکمسب سے کم
ماخذ: Pakistan Education Statistics 2021-22، Pakistan Economic Survey 2024-25

⚠️ این جی او سامان کا المیہ
کچھ سکولوں میں سامان موجود ہے لیکن استعمال نہیں۔ بعض این جی اوز کی فراہم کردہ ٹیکنالوجی سٹور روم میں بند ہے، بعض پر اساتذہ نے ذاتی قبضہ کر لیا، اور بعض جگہوں پر یہ سامان باہر فروخت کر دیا گیا — جبکہ بچے آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔

👻 گھوسٹ سکول اور غائب اساتذہ: کاغذوں پر نظام، زمین پر خلا

2016 میں بلوچستان اسمبلی میں وزیر تعلیم نے سرکاری اعتراف کیا کہ 900 گھوسٹ سکول اور 15,000 لاپتہ اساتذہ کی فائلیں پائی گئیں، اور 3 لاکھ جعلی طالب علموں کا اندراج موجود تھا۔ یہ سرکاری اعتراف تھا — اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

جدول ۶: بلوچستان میں گھوسٹ تعلیمی بحران
مسئلہتعداد / اعدادماخذصورتحال
گھوسٹ سکول2,000 – 3,000 (تخمینہ)HBond / UNICEF 2021جاری
لاپتہ اساتذہ کی فائلیں15,000+بلوچستان اسمبلی 2016غیر حل شدہ
جعلی طالب علم اندراج3,00,000+وزیر تعلیم بیان 2016تسلیم شدہ
غیرحاضر اساتذہ (Alif Ailaan)5,000Alif Ailaan Reportفی کلاس 120+ بچے
ماخذ: Balochistan Assembly 2016 | Alif Ailaan | HBond | UNICEF Pakistan 2021

🌍 بین الاقوامی تحقیقات کیا کہتی ہیں؟

📊 ASER Pakistan 2023

Idara-e-Taleem-o-Aagahi (ITA) کی سالانہ رپورٹ: بلوچستان اور سندھ میں تعلیمی نتائج انتہائی کم ہیں۔ پانچویں جماعت کے بچوں کی اردو/سندھی پڑھنے کی شرح قومی سطح پر 50 فیصد، بلوچستان میں اس سے بھی کم۔ ریاضی میں صرف 34 فیصد بچے بنیادی گھٹاؤ کر سکتے ہیں۔

🌐 UNICEF Pakistan

بلوچستان میں 35 لاکھ بچے یعنی صوبے کی 69 فیصد سکول جانے کی عمر کی آبادی تعلیم سے محروم ہے — پاکستان کے تمام صوبوں میں سب سے زیادہ شرح۔ 78 فیصد لڑکیاں سکول سے باہر ہیں۔

🏦 World Bank

1998 سے 2017 کے درمیان بلوچستان میں سکول سے باہر بچوں کی تعداد دوگنی ہو گئی — 12 لاکھ سے زیادہ اضافہ۔ صوبے میں 59 فیصد بچے سکول سے باہر ہیں (2017 ڈیٹا)۔ بنیادی تعلیم تک رسائی صرف 33 فیصد۔

📈 Global Partnership for Education (GPE) 2024

بلوچستان کی Human Capital Index (HCI) صرف 34 فیصد ہے — پاکستان کے تمام صوبوں میں سب سے کم۔ خواتین کی HCI صرف 32 فیصد ہے۔ Learning Poverty 79.5 فیصد ہے — یعنی ہر 10 میں سے 8 بچے بنیادی تعلیمی مہارتوں سے محروم ہیں۔

📉 Pakistan Planning Commission — DEPIx 2023

بلوچستان کا District Education Performance Index اسکور 46/100 ہے۔ پنجاب (61)، KPK (55)، سندھ (51.5) سے سب سے کم۔ 76 اضلاع کو "low performance” زمرے میں رکھا گیا ہے۔

📰 Alif Ailaan

بلوچستان میں 5,000 سے زیادہ اساتذہ اپنی ڈیوٹی سے غائب ہیں جس کی وجہ سے کلاسوں میں 120 سے زیادہ بچے بغیر استاد کے بیٹھے ہیں۔

جدول ۷: بین الاقوامی تحقیقات کا خلاصہ — بلوچستان تعلیم
ادارہسالاہم نتیجہدرجہ بندی
ASER Pakistan2023بلوچستان سب سے کم تعلیمی نتائجانتہائی تشویشناک
UNICEF Pakistan202469% بچے سکول سے باہرہنگامی صورتحال
World Bank2023سکول سے باہر بچے 1998-2017 میں دوگنےبحران
GPE2024Learning Poverty 79.5%, HCI 34%سب سے کم
Planning Commission2023DEPIx 46/100سب سے کم
Alif Ailaan20215,000 غیرحاضر اساتذہسنگین
Pakistan Edu Stats2023-2441% سکولوں میں صرف ایک استادتشویشناک
ماخذ: مختلف بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے — Encounter News مرتب

✊ تجاویز: تبدیلی کہاں سے آئے؟

بلوچستان کے بچے کسی سے کم نہیں — صلاحیت ہے، ذہانت ہے، لگن ہے۔ لیکن ایک ایسے سسٹم میں دھکیل دیے گئے ہیں جہاں نہ رہنمائی ہے، نہ احتساب، نہ اصلاح کی کوشش۔ تبدیلی کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:

  • 1

    ہیڈ ماسٹرز کی لازمی SNC ٹریننگ: محکمہ تعلیم بلوچستان فوری طور پر تمام ہیڈ ماسٹرز اور پرنسپلز کے لیے نئے نصاب کی باقاعدہ ٹریننگ کا اہتمام کرے — کیونکہ قائد تیار ہوگا تو ٹیم تیار ہوگی۔
  • 2

    Instructional Leadership کا تصور: پرنسپل کا کردار محض انتظامی نہیں بلکہ تعلیمی قیادت کا ہونا چاہیے۔ باقاعدہ کلاس روم وزٹ، فیڈ بیک اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی لازم ہو۔
  • 3

    این جی او سامان کا احتساب: فراہم کردہ تعلیمی آلات کا باقاعدہ ریکارڈ، استعمال کی رپورٹ اور تیسرے فریق کی آڈٹ لازمی کی جائے۔ سامان بیچنا یا ذاتی استعمال فوجداری جرم قرار دیا جائے۔
  • 4

    Activity-Based Learning کی تربیت: اساتذہ کو عملی سطح پر یہ سکھایا جائے کہ SNC میں conceptual teaching کا عملی اطلاق کیسے کریں — کتاب نہیں، طریقہ تعلیم بدلنا ہے۔
  • 5

    Real-Time Monitoring مضبوط کریں: EMIS سسٹم اور real-time monitoring کو تمام اسکولوں تک پھیلایا جائے — خاص طور پر دور دراز علاقوں میں جہاں گھوسٹ سکول اور غائب اساتذہ کا مسئلہ سب سے زیادہ ہے۔
  • 6

    والدین کی شمولیت: Parent-Teacher Meetings کو باقاعدہ بنایا جائے اور والدین کو تعلیمی نتائج سے آگاہ کیا جائے تاکہ نچلی سطح سے بھی جوابدہی قائم ہو۔

🔚 آخری بات

"بلوچستان میں سکول سے باہر ایک بچہ ایک المیہ ہے — لیکن سکول کے اندر ایک بچہ جو کچھ نہیں سیکھ رہا، وہ دوہرا المیہ ہے۔ کیونکہ وہ سوچتا ہے کہ اسے تعلیم مل رہی ہے — جبکہ حقیقت میں اسے صرف وقت کا ضیاع مل رہا ہے۔”
— Encounter News Editorial

وقت آ گیا ہے کہ ہم سوال کریں — والدین، سول سوسائٹی، میڈیا، اور خود اساتذہ بھی: کیا ہمارے سکولوں کے سربراہ واقعی اس کردار کے اہل اور مستحق ہیں جو انہیں دیا گیا ہے؟ اگر نہیں — تو تبدیلی وہاں سے شروع ہونی چاہیے — کتابوں سے نہیں، قیادت سے۔


© 2026 Encounter News — تمام حقوق محفوظ ہیں

ماخذ: ASER Pakistan 2023 | UNICEF Pakistan | World Bank | Global Partnership for Education 2024 | Pakistan Education Statistics 2023-24 | Alif Ailaan | Planning Commission DEPIx 2023


Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker