بلوچستان

سیاسی و قبائلی شخصیت نوابزادہ امیر شہریار خان نوشیروانی نے پاکستان پیپلز پارٹی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا

حکمرانِ سابق ریاست خاران کے پوتے، سیاسی و قبائلی شخصیت نوابزادہ امیر شہریار خان نوشیروانی نے پاکستان پیپلز پارٹی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا

نوابزادہ امیر شہریار خان نوشیروانی نے کہا کہ میں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں کسی ذاتی مفاد، عہدے یا مراعات کے حصول کے لیے شمولیت اختیار نہیں کی تھی۔ میں جنرل عبدالقادر بلوچ کی قیادت میں پارٹی میں شامل ہوا، کیونکہ میری سیاست کا مقصد ہمیشہ خاران و واشک کے عوام، علاقے کی خدمت اور ان کے جائز حقوق کا دفاع رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پارٹی کے اندر رہتے ہوئے میں اپنے لوگوں کے جائز مسائل کے لیے وہ مؤثر کردار ادا نہیں کر سکا جس کی وہ مجھ سے توقع رکھتے ہیں۔ جب ایک سیاسی کارکن اپنی جماعت کے اندر اپنے عوام کی آواز مؤثر انداز میں نہ اٹھا سکے اور ان کے مسائل کے حل میں بے بس ہو جائے تو ایسی سیاسی وابستگی جاری رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

نوابزادہ امیر شہریار خان نوشیروانی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی سے استعفیٰ دینے کا یہ فیصلہ میں نے خاران و واشک کے عوام، کارکنان، بلدیاتی نمائندگان اور علاقے کے معززین سے مشاورت کے بعد کیا ہے۔ ان سب کی رائے بھی یہی ہے کہ کسی جماعت میں محض ایک عضوِ ناقص بن کر رہنے سے بہتر ہے کہ انسان عزت، اصول اور وقار کے ساتھ علیحدگی اختیار کرے اور اپنے عوام کے درمیان رہ کر ان کی خدمت جاری رکھے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان اس وقت ایک انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ کرپشن تمام حدود پار کر چکی ہے، امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے، جبکہ عوام کو امن، روزگار، صحت، تعلیم، پانی، بنیادی سہولیات اور سب سے بڑھ کر مؤثر سیاسی نمائندگی کی ضرورت ہے۔ ایسے حالات میں میرے لیے سیاست صرف کسی جماعت کے ساتھ وابستگی کا نام نہیں بلکہ اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے اور ان کے حقوق کے دفاع کا عہد ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے پوری کوشش کی کہ پارٹی کے اندر رہتے ہوئے اپنے علاقے اور کارکنوں کے مسائل حل کروا سکوں، لیکن مجھے وہ تعاون، توجہ اور سیاسی اہمیت نہیں دی گئی جس کی ضرورت تھی۔ پارٹی رہنماؤں کے رویے اور طرزِ سیاست سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ اب انہیں نظریاتی اور مخلص کارکنوں کی ضرورت نہیں رہی اور وہ عوامی مینڈیٹ اور کارکنوں کی طاقت کے بجائے فارم 47 پر زیادہ بھروسہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسی سیاست میں میرے لیے اپنے عوام کی مؤثر نمائندگی کرنا ممکن نہیں رہا۔

لہٰذا میں نے اپنے ضمیر، اپنے عوام، خاران و واشک کے سیاسی و سماجی حلقوں کی مشاورت، بلوچستان کی موجودہ صورتحال اور اپنے سیاسی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی سے اپنی رکنیت اور سیاسی وابستگی سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں پیپلز پارٹی کے تمام مخلص کارکنوں کا احترام کرتا ہوں۔ میرا یہ فیصلہ کسی شخص کے خلاف ذاتی محاذ آرائی نہیں بلکہ اپنی سیاسی ذمہ داری، اصولوں اور اپنے لوگوں کے ساتھ وفاداری کا فیصلہ ہے۔

نوابزادہ امیر شہریار خان نوشیروانی نے کہا کہ میں نے ایک سیاسی جماعت چھوڑی ہے، اپنے عوام کو نہیں۔ میری سیاست اپنے لوگوں کے ساتھ، ان کے حقوق کے دفاع اور بلوچستان کے بہتر مستقبل کے لیے جاری رہے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker