کوئٹہ کی مشہور ہنہ جھیل خشک سالی کے باعث خشک ہونے لگی

کوئٹہ کی مشہور ہنہ جھیل خشک سالی کے باعث خشک ہونے لگی
کوئٹہ: شفاف پانی، کشتی رانی کے دلچسپ مقابلوں اور خوبصورت مہاجر پرندوں کے باعث سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہنے والی ہنہ جھیل پانی کی شدید قلت اور طویل عرصے سے بارشیں نہ ہونے کے باعث اپنی قدرتی خوبصورتی کھو کر خشک ہو رہی ہے۔
کوئٹہ سے تقریباً 13 کلومیٹر دور واقع اس مشہور ہنہ جھیل کا بڑا حصہ خشک ہو چکا ہے،۔ کوئٹہ اور مختلف شہروں سے آنے والے سیاحوں نے جھیل کی بگڑتی صورتحال پر مایوسی اور شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔
پانی کی کمی سے روئنگ، کنوئنگ کے کھیل کے سینکڑوں کھلاڑیوں کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے اور کشتی رانی واٹر ایڈونچر اسپورٹس ٹورزم سے وابستہ افراد اور سیاحت پر انحصار کرنے والے کاروباری حلقوں کا روزگار بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پانی کی قلت اور مسلسل خشک سالی کی بدولت صوبہ بلوچستان کی پہلی اور واحد انٹرنیشنل واٹر سپورٹس اکیڈمی حیات پرانی واٹر سپورٹس اکیڈمی کے سینکڑوں روئنگ کینوئنگ اور کایا کنگ کے سینکڑوں کھلاڑیوں کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے جبکہ حیات درانی اکیڈمی کے زیر اہتمام گزشتہ کئی دہائیوں سے تحفظ ماحولیات پروجیکٹ کے تحت لگائے گئے سینکڑوں درخت بھی متاثر ہو رہے ہیں علاوہ ازیں مہاجر پرندوں، قریبی باغات اور قدرتی ماحول کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اکیڈمی کے سربرا نے مطالبہ کیا ہے کہ اب وقت ہے ہنہ جھیل میں مختلف سالوں سے جمع شدہ مٹی کو واپس نکال کر زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے مؤثر اور بروقت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے



