امارات امریکا اور اتحادیوں کیساتھ ملکر آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھلوانے کی تیاری کر رہا ہے: امریکی اخبار

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ایران کے حملوں کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھلوانے کی تیاری کر رہا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد کے لیے لابنگ کر رہا ہے جس کے تحت اس کارروائی کی اجازت حاصل کی جاسکے۔
اماراتی سفارتکاروں نے امریکا اور یورپ و ایشیا کی عسکری طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایک مشترکہ اتحاد قائم کریں جو طاقت کے ذریعے آبنائے ہرمز کو کھول سکے۔
یو اے ای کے ایک عہدیدار نے کہا کہ امارات نے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں مدد کے لیے اپنی صلاحیتوں کا جائزہ لیا ہے جس میں بارودی سرنگوں کی صفائی اور دیگر معاون خدمات شامل ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ: دبئی اور ابوظبی کی اسٹاک مارکیٹس میں 120 ارب ڈالر ڈوب گئے
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یو اے ای نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا کو اس اہم آبی گزرگاہ میں واقع بعض جزائر، بشمول ابو موسیٰ جزیرے پر قبضہ کرنا چاہیے جو گزشتہ نصف صدی سے ایران کے کنٹرول میں ہے جبکہ امارات بھی اس پر دعویٰ کرتا ہے۔
عرب حکام کے مطابق سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک بھی اب ایرانی حکومت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے جب تک ایران کو کمزور یا اس کی حکومت کو ختم نہ کر دیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق بحرین جو امریکا کا قریبی اتحادی ہے اور جہاں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کا ہیڈ کوارٹر ہے اس قرارداد کی تیاری کر رہا ہے اور اس پر ووٹنگ جمعرات کو متوقع ہے۔
خلیجی حکام کے مطابق یو اے ای کا یہ نیا جارحانہ مؤقف اس کی حکمت عملی میں ایک بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ جنگ سے قبل اماراتی سفارتکار امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں مصروف تھے، انہی کوششوں کے تحت ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سابق سیکرٹری علی لاریجانی نے ابوظبی کا دورہ بھی کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اب یو اے ای اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مؤقف کے قریب آ رہا ہے جس میں اتحادی ممالک سے جنگ کا زیادہ سے زیادہ بوجھ اٹھانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ اپنے مشیروں سے کہہ چکے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کھلوائے بغیر بھی جنگ ختم کرنے پر آمادہ ہیں اور اس معاملے کو دیگر ممالک پر چھوڑ سکتے ہیں۔
خلیجی حکام کا کہنا ہے کہ یو اے ای کو یقین ہے کہ ایشیا اور یورپ کے وہ ممالک جو اس وقت ہچکچاہٹ کا شکار ہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کی صورت میں اس کارروائی میں شامل ہو جائیں گے۔



