انسانوں میں ‘شیمونڈا وائرس’ کا پہلا کیس رپورٹ، متاثرہ مریض کی موت

فرانسیسی حکام نے مویشیوں میں پائے جانے والے ’شیمونڈا وائرس‘ کی انسانوں میں منتقلی کی تصدیق کی ہے۔ فرانسیسی وزارتِ صحت اور محکمہ زراعت نے مشترکہ بیان میں اس واقعے کو دنیا بھر میں انسانوں کے اندر اس وائرس کی منتقلی کا پہلا کیس قرار دیا ہے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق شیمونڈا وائرس کو ایسا وائرس سمجھا جاتا تھا جو انسانوں میں منتقل نہیں ہو سکتا۔ حالیہ واقعہ میں انفیکشن کی تصدیق انسان میں اس وائرس کا پہلا دستاویزی کیس ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ افریقہ اور ایشیا کے مویشیوں میں یہ وائرس کئی دہائیوں سے موجود ہے۔ یورپ میں یہ وائرس رواں سال موسمِ گرما میں پہلی مرتبہ سامنے آیا، جہاں فرانس سمیت مختلف مقامات پر مویشیوں کے فارموں میں اس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ یہ وائرس مویشیوں، خصوصاً گائے میں زیادہ پایا جاتا ہے۔
بیان میں متاثرہ مریض کی غیر معمولی طبی حالت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’یہ اس لیے بھی غیر معمولی کیس ہے کیوں کہ متاثرہ مریض کا مدافعتی نظام شدید کمزور تھا۔‘
بیان کے مطابق مریض ایک سنگین بیماری کے علاج کے لیے فرانس کے تیسرے بڑے شہر ’لیون‘ کے اسپتال میں زیرِ علاج تھا۔ مریض کی موت کے بعد وائرس سے متاثر ہونے کی وجوہات اور موت سے اس کے ممکنہ تعلق کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
شیمونڈا وائرس کیا ہے اور کیسے پھیلتا ہے؟
شیمونڈا وائرس کا تعلق وائرسز کے اس گروہ سے ہے جو کاٹنے والے چھوٹے حشرات، خصوصاً ’کولی کوائڈز مِج‘ (Culicoides midge) نامی مکھیوں کے ذریعے پھیلتے ہیں۔
وزارتِ صحت کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مشرقی فرانس میں اس وائرس سے متاثر ہونے والا شہری بھی اسی مکھی کے کاٹنے سے وائرس کا شکار ہوا۔ مشرقی فرانس کے اس علاقے میں رواں سال جانوروں میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔
اس وائرس کی شناخت پہلی بار 1960 کی دہائی کے وسط میں نائجیریا میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد افریقہ کے مغربی، مشرقی اور جنوبی علاقوں کے علاوہ جاپان میں بھی مویشیوں میں اس کے کیس وقفے وقفے سے رپورٹ ہوتے رہے۔
بیلجیئم کے قومی ادارۂ صحت ’سائنسینو‘ کے مطابق ’شیمونڈا وائرس‘ سے متاثرہ بالغ گائیوں میں بخار، سستی اور اسہال جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں جب کہ دودھ دینے والی گائیوں میں دودھ کی پیداوار میں نمایاں کمی ہوسکتی ہے۔
یورپ میں وائرس کا پھیلاؤ
مغربی یورپ میں شیمونڈا وائرس رواں سال پہلی بار سامنے آیا تھا۔ آسٹریا، بیلجیئم، فرانس، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، لیختنشتائن، لکژمبرگ، نیدرلینڈز، پرتگال، اسپین اور سوئٹزرلینڈ میں اس کے کیسز رپورٹ ہوئے۔
فرانس میں اب تک اس وائرس کے زیادہ تر کیسز مویشیوں بالخصوص گائے میں سامنے آئے تھے۔ رواں سال موسمِ گرما کے دوران بھیڑوں، بکریوں اور گھوڑوں میں بھی اس کے چند کیس رپورٹ ہوئے تھے۔
شیمونڈا وائرس سے بچاؤ کے لیے کوئی ویکسین بھی دستیاب نہیں ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ شواہد کی بنیاد پر عام آبادی کو فی الحال اس وائرس سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
دوسری جانب فرانسیسی حکام اور یورپی ہیلتھ ایجنسیز (ECDC) نے واضح کیا ہے کہ عوام کے لیے اس وائرس کا خطرہ فی الحال نہ ہونے کے برابر ہے۔ چونکہ یہ ایک غیر معمولی کیس تھا جو صرف ایک انتہائی کمزور مدافعتی نظام والے مریض میں سامنے آیا، اس لیے اس کے وبائی شکل اختیار کرنے یا انسانوں سے انسانوں میں پھیلنے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ تاہم، عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے اس کیس پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔



