بزنس

چاندی کی قیمت آسمان کیوں چھو رہی ہے؟

رواں سال چاندی میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی۔ یہ سال کے آغاز میں تقریباً 30 ڈالر فی اونس سے بڑھ کر 18 دسمبر کو 67.65 ڈالر فی اونس کی تاریخی سطح پر پہنچ گئی۔

یہ دھات جو جنوری میں نیویارک مرکنٹائل ایکسچینج کے کموڈیٹی ڈویژن پر تقریباً 30 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہی تھی، گرمیوں میں 37 سے 40 ڈالر کے درمیان رہی، اور ستمبر میں غیر معمولی طور پر مزید اوپر نکل گئی۔

سال کے آخری تین مہینوں میں رفتار مزید تیز ہو گئی۔

سال کے آغاز سے اب تک 110 فیصد سے زیادہ اضافہ چاندی کے لیے ایک بڑی واپسی ہے، جسے طویل عرصے سے سونے کا کم تر ہم منصب سمجھا جاتا تھا۔

اگرچہ کچھ سرمایہ کار قلیل مدت میں قیمت میں کمی کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں، لیکن مجموعی رجحان آئندہ سال کے لیے مثبت ہے۔

سال دو ہزار پچیس سے پہلے، چاندی ایک دہائی تک زیادہ تر 15 سے 25 ڈالر کے د/رمیان رہی، کبھی کبھار 30 ڈالر سے اوپر گئی مگر مستقل رفتار برقرار نہ رکھ سکی۔

انیس سو اسّی اور 2011 کی بلند ترین سطحوں پر بھی چاندی تقریباً 49 ڈالر تک ہی پہنچی، جب کہ سونا 1,900 ڈالر سے اوپر چلا گیا تھا۔

اس سال، تاہم، سونے کی کارکردگی نسبتاً کم رہی، تقریباً 60 فیصد بڑھ کر 4,340 ڈالر فی اونس، جب کہ چاندی کی قیمت دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی۔

یہ اضافہ جزوی طور پر امریکی ڈالر کی کمزوری اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقعات کے باعث ہوا، مگر اصل وجہ عالمی رسد میں کمی ہے، جو طلب کا ساتھ نہیں دے پا رہی۔

چاندی کی پیداوار کو کن چیلنجز کا سامنا ہے؟
لاطینی امریکہ، جو دنیا کی نصف سے زیادہ چاندی پیدا کرتا ہے، وہاں پیداوار میں کمی آ رہی ہے کیونکہ کانیں پرانی ہو رہی ہیں اور ذخائر گھٹ رہے ہیں۔

میکسیکو، جو دنیا کی 25 فیصد چاندی سپلائی کرتا ہے، وہ‍اں حالیہ برسوں میں دوہرے ہندسے کی کمی ہوئی ہے۔ شمالی ریاست چیہواہوا کی بڑی کان سان جولیان 2027 تک اپنی عمر پوری کرنے کے قریب ہے۔

پیرو، بولیویا اور چِلی میں، جو تقریباً ایک تہائی عالمی سپلائی کرتی ہیں، کم ہوتی معدنی معیار کے باعث نکالنے کی لاگت بڑھ رہی ہے۔

سیاسی عدم استحکام اور سخت ضوابط نے نئی سرمایہ کاری کو بھی روکا ہے۔ لندن میں قائم گلوبل ڈیٹا کے مطابق، نئی دریافتیں یا معاون قوانین نہ ہوئے تو دہائی کے اختتام تک پیداوار جمود یا کمی کا شکار رہے گی۔

دی سلور انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، چاندی کی مارکیٹ مسلسل پانچویں سال بھی خسارے میں ہے، اور اس سال طلب رسد سے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ اونس زیادہ رہنے کی توقع ہے۔

چاندی کی مانگ کیوں بڑھ رہی ہے؟
چاندی صرف سرمایہ کاری کے لیے نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور صاف توانائی کے لیے بھی ناگزیر بنتی جا رہی ہے۔

سولر پینلز میں بجلی کی ترسیل کے لیے چاندی کا پیسٹ استعمال ہوتا ہے۔

قابلِ تجدید اہداف بڑھنے سے چاندی کی مانگ میں اضافہ ہو گا۔
روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑیوں میں، بیٹریوں، وائرنگ اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں دو تہائی زیادہ چاندی درکار ہوتی ہے۔

ڈیٹا سینٹرز میں مصنوعی ذہانت اور تیز اور مستحکم سرکٹس کے لیے چاندی کی اعلیٰ برقی و حرارتی موصلیت ضروری ہے، جو شدید حرارت کو سنبھالنے میں مدد دیتی ہے۔

سکوں اور سلاخوں کی مانگ کم ضرور ہوئی ہے، مگر زیورات، الیکٹرونکس، طبی آلات اور صارفین کی مصنوعات میں استعمال مضبوط ہے۔

دی سلور انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، آئندہ پانچ برسوں میں صنعتی مانگ بتدریج بڑھے گی۔

آکسفورڈ اکنامکس کا اندازہ ہے کہ 2031 تک آٹو سیکٹر میں مانگ سالانہ 3.4 فیصد بڑھے گی، اور امریکہ میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر میں 65 فیصداضافے سے بھی فائدہ ہو گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker