بجٹ میں موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس کم کرنے کی تجویز پیش

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے موبائل فونز پر عائد ٹیکسز میں کمی کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کا آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں جائزہ لیا جائے گا۔
کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو منعقد ہوا جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال اور ٹیکس پالیسی آفس کے حکام نے بریفنگ دی۔ حکام نے یقین دہانی کرائی کہ موبائل فونز پر ٹیکس میں کمی کے معاملے کو آئندہ بجٹ میں زیر غور لایا جائے گا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت 500 ڈالر سے زائد مالیت کے درآمدی موبائل فونز پر تقریباً 76 ہزار روپے تک ٹیکس عائد ہوتا ہے، جو مجموعی طور پر 54 فیصد بنتا ہے، جبکہ 700 سے 750 ڈالر قیمت والے فونز پر ٹیکس کی شرح تقریباً 55 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔
حکام کے مطابق درآمدی موبائل فونز پر 54 فیصد ٹیکس عائد ہے، جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کیے گئے فونز پر یہ شرح کم ہو کر تقریباً 25 فیصد رہ جاتی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ موبائل فونز پر اس وقت 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) بھی لاگو ہے، جبکہ مہنگے فونز پر تقریباً 11 ہزار 500 روپے ودہولڈنگ ٹیکس اور رعایتی انکم ٹیکس بھی لیا جاتا ہے۔ ایف بی آر حکام کا کہنا تھا کہ فی الحال 18 فیصد جی ایس ٹی یا ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی گنجائش موجود نہیں۔
کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے کہا کہ ملک میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کی ضرورت ہے کیونکہ یہ معیشت کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سیلز ٹیکس پہلے ہی لیا جا رہا ہے تو موبائل فونز پر اضافی انکم ٹیکس کا جواز نہیں بنتا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں موبائل فون ٹیکس سے متعلق واضح اور شفاف پالیسی پیش کی جائے تاکہ نظام میں موجود غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ کیا جا سکے۔



