دلچسپ و عجیب

کیا مچھر آپ کو زیادہ کاٹتے ہیں؟ تو اس کی وجوہات سائنسدانوں کی زبانی جانیں

موسم گرما کی شام آپ دوستوں یا گھر والوں کے ساتھ باہر گھومنے نکلتے ہیں اور جب واپس گھر جاتے ہیں تو مچھروں کے کاٹنے کے نشانات جسم کے کھلے حصوں پر نمایاں ہوتے ہیں جبکہ دیگر افراد کو ان کیڑوں کو چھوا بھی نہیں ہوتا۔

یہ ایسا تجربہ ہے جس کا سامنا بیشتر افراد کو ہوتا ہے اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ محض بدقسمتی نہیں۔

اس حوالے سے کافی تحقیقی کام ہوا ہے جس میں بتایا گیا کہ خون چوسنے کے حوالے سے مچھر شکار کا انتخاب کافی منفرد انداز سے کرتے ہیں۔

بو، جسمانی کیمسٹری اور بینائی سب کو اپنے شکار کے انتخاب کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اس حوالے سے جرنل نیچر میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا کہ مچھر سب سے پہلے لوگوں کو کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ذریعے دیکھتے ہیں۔

اگر آپ کو علم نہ ہو ہم سب ہی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ہر سانس کے دوران خارج کرتے ہیں۔

کاربن ڈائی آکسائیڈ کو دیکھنے کے بعد جب مچھر قریب آتے ہیں تو پھر کسی فرد کی منفرد بو اس بات کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے کہ وہ مچھر کا شکار بنیں گے یا نہیں۔

محققین نے ایسے درجنوں جِلدی کیمیکلز کو شناخت کیا جو مچھروں کے رویوں پر اثرانداز ہوتے ہیں، جن میں سے ایک 1-octen-3-ol نامی مرکب بہت اہم ہوتا ہے۔

یہ مرکب جِلد کی چکنائی سے بنتا ہے اور مچھروں کے لیے سب سے زیادہ پرکشش ثابت ہوتا ہے۔

آپ کی بو اہم ہوتی ہے
برسوں تک خون کے گروپ کو مچھروں کے لیے آپ کو مقناطیس بنانے کا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا۔

کچھ تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ او بلڈ گروپ کے حامل افراد کو مچھر زیادہ کاٹتے ہیں مگر اب سائنسدانوں نے اس خیال کو مسترد کیا ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ کسی فرد کی جسمانی بو اس حوالے سے خون کے گروپ سے زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انسانی جِلد میں پائے جانے والے بیکٹیریا ایسے کیمیائی عناصر تیار کرتے ہیں جو ہر فرد میں الگ ہوتے ہیں۔

یعنی کچھ افراد ایسی بو زیادہ خارج کرتے ہیں جو انہیں دیگر کے مقابلے میں مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش بنا دیتی ہے اور جینز اس عمل میں اثرانداز ہوتے ہیں۔

امریکا کی راک فیلر یونیورسٹی کی ایک پرانی تحقیق میں بتایا گیا کہ جن افراد کی جِلد میں carboxylic ایسڈز کی سطح زیادہ ہوتی ہے، وہ مچھروں کا زیادہ شکار بنتے ہیں۔

نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ حاملہ خواتین، موٹاپے کے شکار افراد اور ایسے افراد جو جسمانی طور پر زیادہ سرگرم ہوتے ہیں، وہ زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں، جس کے باعث مچھروں کے لیے انہیں تلاش کرنا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔

جسمانی حرارت بھی مچھروں کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو شناخت کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

کیا لباس کردار ادا کرتا ہے؟
تحقیقی رپورٹس کے مطابق اس کا جواب ہاں ہے۔

مچھر ایک بار کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ڈیٹیکٹ کرنے کے بعد گہرے رنگوں جیسے سیاہ، نیوی بلیو اور سرخ لباس پہننے والے افراد کو زیادہ آسانی سے دیکھ لیتے ہیں۔

ہلکے رنگ جیسے سفید اور سبز مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش نہیں ہوتے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker