بنگلہ دیش کے نئے ممکنہ وزیراعظم طارق رحمان کون ہیں؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 13 فروری 2026ء) مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو ہونے والے قومی انتخابات میں طارق رحمان کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو اکثریت حاصل ہو چکی ہے۔ اس پیش رفت کو سترہ کروڑ سے زائد آبادی والے اس جنوبی ایشیائی ملک میں ایک اہم سیاسی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
بی این پی نے بھی اپنی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔
رحمان کے لیے یہ تبدیلی غیر معمولی
ساٹھ سالہ طارق رحمان دسمبر میں لندن سے ایک ایسے ملک واپس آئے جو شدید انتشار کا شکار تھا۔ چند دنوں بعد ہی ان کی والدہ سابق وزیراعظم خالدہ ضیا طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔
الیکشن میں انہیں ایک ابھرتی ہوئی مذہبی قدامت پسند جماعت کا بھی سامنا تھا، جو سن2024 کی اُس اسٹوڈنٹ قیادت کی تحریک کے بعد مقبولیت حاصل کر چکی تھی، جس نے ضیا کی دیرینہ حریف سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔
رحمان کے لیے سب سے بڑا چیلنج
بنگلہ دیش میں سن 2024 کی تحریک سے جمعرات کے انتخابات تک کا سفر مسلسل ہنگامہ خیزی سے عبارت رہا۔ بنگلہ دیش کو ایک اسٹودنٹ رہنما کی موت کے بعد بدامنی، اسلامی شدت پسند گروہوں کے دوبارہ سرگرم ہونے، قانون کی حکمرانی کمزور پڑنے، ہندو اقلیتوں اور میڈیا پر حملوں اور مشکلات کا شکار معیشت جیسے مسائل کا سامنا رہا۔
اٹلانٹک کونسل کے سینیئر فیلو برائے جنوبی ایشیا مائیکل کوگلمین کے مطابق طارق رحمان نے بلاشبہ درست باتیں کی ہیں، ”انہوں نے کرپشن کے خاتمے اور قوم کو متحد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ سب سننے میں اچھا لگتا ہے مگر جب بی این پی آخری بار اقتدار میں تھی، تو اس کا ریکارڈ اچھا نہیں تھا، ریاستی جبر اور بدعنوانی دونوں ختم نہ ہوسکے۔‘‘
سیاسی خاندان کا وارث
طارق رحمان، ضیا خاندان کی سیاسی وراثت میں ایک اہم شخصیت ہیں۔
ان کی والدہ نے دو مرتبہ وزیراعظم بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ آخری بار وہ سن دو ہزار ایک تا سن دو ہزار چھ اقتدار میں رہیں۔ ان کے والد ضیاء الرحمان فوج سے سیاست میں آئے اور بنگلہ دیش کے چھٹے صدر بنے، انہیں1981ء میں قتل کر دیا گیا تھا۔
طارق رحمان کی اہلیہ زبیدہ رحمان ہیں۔ وہ ایک معالج اور سابق بحریہ کے سربراہ کی بیٹی ہیں۔ بی این پی دہائیوں تک بنگلہ دیشی سیاست پر حاوی رہی۔
گزشتہ برسوں میں بی این پی نے متعدد انتخابات کا بائیکاٹ کیا، جن میں سن 2024 کا الیکشن بھی شامل ہے۔ اس جماعت کا مؤقف تھا کہ دھاندلی کی وجہ سے اس نے بائیکاٹ کیے۔
طارق رحمان کا متنازعہ ماضی
طارق رحمان کا سیاسی کیریئر مسلسل تنازعات کا شکار رہا ہے۔ حسینہ کی حکومت کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات قائم کیے گئے۔ وہ 17 سال لندن میں جلاوطنی میں رہے۔
سن 2018 میں انہیں 2004ء کے اس گرینیڈ حملے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی، جس میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ حسینہ بال بال بچ گئی تھیں۔ رحمان اور بی این پی نے اس فیصلے کو سیاسی قرار دیا اور اس کی تردید کی۔
سن 2008 میں وہ ملک چھوڑ کر علاج کی غرض سے لندن چلے گئے۔ اس سے قبل وہ سن 2006 سے 2008ء تک فوج کی حمایت یافتہ نگران حکومت کے دور میں حراست کے دوران مبینہ تشدد کا شکار بھی ہوئے۔
یہ وہ دور تھا، جب ضیاء نئی حکومت کے قیام اور اقتدار کی منتقلی میں ناکام رہی تھیں۔
اگرچہ طارق رحمان نے اپنی والدہ کی کابینہ میں کوئی عہدہ نہیں سنبھالا لیکن بی این پی میں ان کا اثر و رسوخ ہمیشہ نمایاں رہا اور وہ قائم مقام چیئرمین، سینیئر نائب چیئرمین اور سینیئر جوائنٹ سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ امریکی سفارتی کیبلز کے افشا شدہ مواد میں انہیں ”ناقابل یقین حد تک بدعنوان‘‘ قرار دیا گیا تھا۔
رحمان کی امیج سازی
حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد رحمان کے خلاف الزامات اور سزائیں کالعدم قرار دے دی گئیں، جس سے ان کی وطن واپسی کی راہ ہموار ہوئی۔
الیکشن سے قبل رحمان نے اپنی سیاسی امیج کو بہتر بنانے کے لیے روزگار کے مواقع، غریب خاندانوں کے لیے مالی امداد، آزادی اظہار کے تحفظ، بہتر قانون نافذ کرنے اور کرپشن کے خاتمے جیسے وعدے کیے۔
حسینہ کی برطرفی کے بعد نگران حکومت کے سربراہ اور نوبل انعام یافتہ محمد یونس نے لندن میں رحمان سے ملاقات کی، جس نے ان کی واپسی میں اہم کردار ادا کیا۔
طارق رحمان کا عوامی لیگ کے ساتھ رویہ کیا ہو گا؟
اٹلانٹک کونسل کے کوگلمین کے مطابق رحمان کے لیے سب سے اہم آزمائش یہ ہو گی کہ وہ حسینہ کی عوامی لیگ کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔
حسینہ کی جماعت پر یہ الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ اس نے بی این پی کے خلاف کریک ڈاؤن کیا اور سینئر رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتار کیا۔ حسینہ کے دور حکومت میں رحمان کی والدہ بھی گرفتار اور قید رہیں۔
حسینہ اگست سن 2024 سے بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں اور گزشتہ سال ڈھاکہ کی ایک خصوصی عدالت نے انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے تحت سزائے موت سنائی۔
ان جرائم کا تعلق اُس کریک ڈاؤن سے تھا، جس میں تحریک کے دوران متعدد مظاہرین مارے گئے۔
حسینہ ان الزامات کی تردید کرتی ہیں۔ ادھر عوامی لیگ کو الیکشن میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا اور اس کے ہزاروں کارکن مبینہ انتقامی کارروائیوں کے خدشے کے باعث روپوش ہیں۔
کوگلمین کے مطابق، ”اگر رحمان بدلے کی سیاست پر اترتے ہیں تو اس کا مطلب ہو گا کہ پرانی سیاست اب بھی موجود ہے۔ لیکن اگر وہ قومی یکجہتی کو ترجیح دیتے ہیں، تو یہ ایک مثبت اشارہ ہو گا۔‘‘



