ٹرمپ کی پوسٹیں دیکھ کر لگتا ہے ان کا توازن بگڑ چکا: امریکی پروفیسر
کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر اور معروف ماہرِ معاشیات پروفیسر جیفری سکس نے ایران کشیدگی، ناکام مذاکرات اور موجودہ امریکی پالیسی سازی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ے مطابق جیفری سکس نے اس صورتحال کو غیر منظم، غیر شفاف اور افراتفری پر مبنی قرار دیا اور صدر ٹرمپ کی ذات، رویے اور ذہنی کیفیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہ سب کچھ کسی گہری یا انتہائی ذہین حکمت عملی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس میں ایک طرح کی افراتفری شامل ہے۔
پروفیسر جیفری سکس کے مطابق درحقیقت ‘امریکا’ کہنا بھی عجیب لگتا ہے کیونکہ یہ امریکا نہیں بلکہ ایک شخص ہے، وہ سمجھتا ہے کہ وہ دھمکی، دباؤ اور شور شرابے کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کر سکتا ہے، یہ جزوی طور پر ایک فریب ہے، وہ شروع سے یہی سوچتا آیا ہے کہ وہ مطالبات کرے، دھمکیاں دے، بمباری کرے اور اس کے نتیجے میں اسے کامیابی مل جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے وہ واقعی اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ وہ دھوکے یا طاقت کے ذریعے کامیاب ہو سکتا ہے، یہ دراصل ایک فرد کا شو ہے، میرے خیال میں ایک وہمی اور نااہل ایک شخص، یہ سب کچھ ایک شخص ڈونلڈ ٹرمپ کے گرد گھوم رہا ہے، میں اس میں کوئی گہری حقیقت نہیں دیکھتا سوائے اس کے کہ ایک نااہل، وہمی بوڑھا آدمی شور مچا رہا ہے، دھمکیاں دے رہا ہے، بمباری کر رہا ہے اور قتل کر رہا ہے تاکہ اپنی مرضی منوا سکے۔
ٹرمپ کی ذہنی کیفیت پر جیفری سکس نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے ٹرمپ کا توازن بگڑ چکا ہو، وہ ایسے بیانات اور پوسٹس کر رہا ہے جو معمول سے بہت زیادہ ہٹ کر ہیں، ایسے جملے جو امریکی تاریخ میں کسی صدر نے نہیں کہے۔



