بیرون ملک تربیت اور ڈیپوٹیشن سے واپسی پر افسران کیلئے سخت اقدامات، ڈگری تصدیق اور مالی ضمانت لازمی قرار

اسلام آباد: اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بیرونِ ملک اور ملک کے اندر تعلیمی پروگراموں، وظائف اور ڈیپوٹیشن سے واپس آنے والے سول سرونٹس کیلئے ڈگریوں کی تصدیق اور مالی ضمانتوں کی کڑی نگرانی سے متعلق سخت لازمی شرائط عائد کردی ہیں۔
نئے جاری کردہ ایس او پیز کے تحت حکومت نے واضح کردیا ہے کہ سرکاری خرچ پر بیرونِ ملک تربیت اور تعلیمی دوروں کو اب غیر معینہ مدت کی رخصت تصور نہیں کیا جائے گا جب کہ قواعد کی خلاف ورزی پر ملازمت اور مالی معاملات میں سخت سزاؤں کا نظام متعارف کرا دیا گیا ہے۔
تعلیمی رخصت کے بعد بیرونِ ملک جامعات یا ملک کے اندر تعلیمی پروگراموں سے واپس آنے والے بیوروکریٹس اکثر اپنی حتمی اسناد جمع کرانے میں تاخیر کرتے تھے تاہم نئے سرکلر نے صورتحال یکسر تبدیل کردی ہے۔
نئے سرکلر کے مطابق تعلیمی رخصت یا بیرونِ ملک وظائف سے واپس آنے والے افسران کیلئے لازم ہوگا کہ وہ اپنی جوائننگ رپورٹ کے ساتھ ڈگری سرٹیفکیٹ کی مصدقہ نقل یا سرکاری تعلیمی ٹرانسکرپٹ جمع کرائیں، اگر کوئی افسر کسی معقول اور مصدقہ وجہ کے بغیر اپنی ڈگری جمع کرانے میں ناکام رہتا ہے تو اسے باضابطہ طور پر ڈیوٹی سے غیر حاضر تصور کیا جائے گا۔
اگر کسی غیر ملکی جامعہ کی جانب سے باضابطہ ڈگری کے اجراء میں تاخیر ہو رہی ہو تو افسر کو متعلقہ تعلیمی ادارے کی ایسی قابلِ تصدیق دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی جو اس کی تعلیمی کارکردگی کے تسلی بخش ہونے کی تصدیق کریں اور تاخیر کی قابلِ جواز وجہ بیان کریں، ان دستاویزات کے بغیر افسر کو دوبارہ ڈیوٹی جوائن کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دستاویزات جمع ہونے کے بعد ڈگری اور جوائننگ رپورٹ فوری طور پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ٹریننگ ونگ کو بھیج دی جائیں گی تاکہ مرکزی ریکارڈ کو مستقل بنیادوں پر ہم آہنگ اور مرتب رکھا جا سکے۔
وفاقی حکومت نے سرکاری خرچ پر دیے جانے والے وظائف اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں سے متعلق مالی معاملات میں موجود بڑی خامیوں کو دور کرنے کیلئے بھی اقدامات کیے ہیں کیونکہ ماضی میں بعض افسران لازمی مدتِ ملازمت پوری کیے بغیر ملازمت چھوڑنے یا استعفیٰ دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں، اس صورتحال کی روک تھام کیلئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ہر اس افسر کیلئے مالی واجبات کے مرکزی بیان کا طریقۂ کار متعارف کرایا ہے جو ضمانتی بانڈ پر دستخط کرتا ہے۔
اب ٹریننگ ونگ (ٹی ونگ) پابند ہوگا کہ وہ فوری طور پر ایگزیکٹو ونگ (ای ونگ) کو مالی تفصیلات فراہم کرے، ان تفصیلات میں وظیفے کی اصل لاگت، تربیت کے اخراجات اور افسر کو ادا کی گئی وہ تمام رقوم شامل ہوں گی جن کی واپسی ممکن ہے، مالی واجبات کے بیان میں لازمی مدتِ ملازمت بھی واضح طور پر درج ہوگی جس کے دوران افسر کو واپسی کے بعد ریاست کی خدمت انجام دینا ہوگی، اس دستاویز میں ضمانتی بانڈ کی خلاف ورزی کی واضح شرائط بھی بیان کی جائیں گی جن میں غیر منظور شدہ استعفیٰ دینا یا ملازمت ترک کرنا شامل ہے۔
اس کے ساتھ متعلقہ افسر سے قابلِ وصول مالی جرمانے کی درست رقم بھی درج ہوگی، مالی واجبات کا یہ بیان افسر کی ذاتی فائل کا بنیادی حصہ ہوگا اور جب بھی اس کے ملازمتی معاملات یا شرائط سے متعلق کوئی انتظامی فیصلہ زیرِ غور آئے گا تو اسے مجاز حکام کے سامنے باضابطہ طور پر پیش کرنا لازم ہوگا۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ منظور شدہ رخصت، تعلیمی رخصت یا ڈیپوٹیشن میں توسیع کیلئے درخواست دینا بذاتِ خود افسر کی مسلسل غیر حاضری کا جواز نہیں بنے گا، افسران پابند ہوں گے کہ منظور شدہ مدت مکمل ہوتے ہی ڈیوٹی پر رپورٹ کریں، خواہ ان کی توسیع کی درخواستیں ابھی منظوری کی منتظر ہوں، جوائننگ رپورٹ جمع نہ کرانے کی صورت میں افسر کو بغیر اجازت غیر حاضر تصور کیا جا سکتا ہے، جبکہ معاملہ مناسب ہدایات کیلئے اعلیٰ افسران کو بھیجا جا سکتا ہے۔



